उत्तर प्रदेश दिवंगत मौलाना राबे हसनी नदवी ने कभी माल और ओहदे की तलब नहीं की : मौलाना खलिद सैफुल्लाह रहमानी

Time India News 11
0

 


Timeindianews11UP


کو کس طرح دور کر سکتے ہیں۔ اللہ نے مولانا کے اندر یہ خصوصیت رکھی تھی کہ حضرت نے کبھی مسلکی اختلاف پر کبھی کوئی بیان نہیں دیا اور کوئی اختلافی کام نہیں کیا۔ اس طرح کے تعزیتی جلسہ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی بھی تعلیم دیتے ہیں۔ انہوں نے حضرت مولاناؒ کے مشن کو فروغ دینے کیلئے اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازا۔
دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سکریٹری مولانا سید جعفر مسعود ندوی نے مولانا رابع صاحب کی خصوصیات سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا سب سے متاثر کن وصف ان کا اخلاق تھا جس کا آج فقدان پایاجا رہا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ حسن سلوک میں کوئی تفریق نہیں برتتے تھے، اگر آپ کے اندر تحمل، بردباری اور برداشت کا مادہ نہیں ہے تو آپ لوگوں پر اپنا اثر نہیں ڈال سکتے ہیں۔ اہل خانہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ معاملہ یکساں رکھتے تھے۔ وہ ایک مثالی بیٹے، بھائی، استاذ اور عظیم رہنما تھے۔سفر اور اجلاس میں اس بات کا پورا خیال رکھتے تھے کہ کسی کو کمتری کا احساس نہ ہو۔ ان کے تواضع اور سادگی کے واقعات تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا ہم بھی اپنے اندر وہ جذبہ پیدا کریں تو اللہ ہمیں بھی دنیا و آخرت کی عزتوں سے نواز سکتا ہے۔
رابطہ مدارس اسلامیہ دار العلوم دیوبند مشرقی یوپی زون 1کے صدر مفتی اقبال احمد قاسمی نے کہا کہ کم گوئی مولانا رابع حسنی ندویؒ کاخاص وصف تھا،علم اور حلم کا مجموعہ تھے، حدود شریعت میں رہتے ہوئے تحمل مزاجی کے ساتھ بڑے بڑے معاملات کو بگڑنے سے بچا لیتے تھے۔ اتحاد بین المسلمین کیلئے فکرمند اور کوشاں رہتے تھے، مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ علمی اور تصنیفی خدمات بھی بہت سی ہیں۔ مولاناؒ جس کمالات کے مالک تھے ایسی شخصیات بہت کم پائی جاتی ہیں۔
تعزیتی اجلاس کے روح رواں اور نگراں مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے مہتمم محی الدین تاج خسرونے تمام مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا سید رابع حسنی صاحب ندوی مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے رکن شوریٰ کے ساتھ ساتھ سرپرست بھی تھے، مولاناؒ کی رحلت کے بعد سے وہ عہدہ خالی ہو گیا ہے، مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی اجلاس میں موجود ہیں، انہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی کے توسط سے مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی کو مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے ارکان شوریٰ میں شامل کئے جانے کی درخواست کی، جس پر مولانا بلال حسنی ندوی نے مجمع عام کے سامنے درخواست کو قبول کیا۔ الحاج معین لاری نے کہا کہ میری بھی ابتدائی تعلیم ندوۃ العلماء میں ہوئی، مولانا رابع حسنی صاحب کا سانحہ ارتحال ملت اسلامیہ کاعظیم نقصان ہے۔ ہماری تمنا ہے کہ تمام دینی ادارے اپنی خدمات انجام دیتے رہیں۔ مفتی امیر اللہ قاسمی نے ذمہ داران شہر اور مہمانوں کے سامنے مدرسہ جامع العلوم کا تعارف پیش کیا۔ مفتی محمدسلطان قمر قاسمی نے عربی میں تقریر پیش کی۔ نظامت کے فرائض مفتی محمد معاذ قاسمی نے انجام دیتے ہوئے مولانا رابع حسنی ندوی ؒ کی مختصر سوانحہ خاکہ اور خدمات کے تعلق سے پیش کیا۔ قاری عبید الحئی نے تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا آغاز کیا۔ مولوی محمد مرشد، مولوی محمد مسعود نے نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر شہر کانپور کے تمام علمائے کرام، ائمہ مساجد، ذمہ داران و معززین شہر اور عوام وخواص کثیر تعداد میں موجود رہے۔

By...naseemkhan

एक टिप्पणी भेजें

0 टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें (0)

Made with Love by

Pixy Newspaper 11 Template is Designed Theme for Giving Enhanced look Various Features are availabl…
To Top